Contact Form

Name

Email *

Message *

Saturday, 23 December 2023

خریدہ فاروقی کے خریدے گئے سوالات

جاوید بلوچ

صحافت ایک عظیم پیشہ ہے، ایک زمہ داری بھی اور ایک کھٹن راستہ بھی ہے جہاں چاپلوسی ءُ طاقت ور کا آشرباد ساتھ ہونا ایک داغ ہوتا ہے اور وقتِ حاکم سے ناراضی کا سامنا کرنا عام۔ 


لیکن فسادات کے بعد حادثاتی طورپر بننے والی کسی قوم کی نماہندہ صحافی سے اس سے زیادہ اور کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ غریدہ فاروقی کے علاوہ بھی کچھ ہوسکتا ہے۔ کاش کہ خریدہ آنٹی! لاپتہ بلوچ افراد کے لواحقین کے اس مارچ کو شروع سے کور کررہی ہوتی تو انھیں یہ سبق ملتا کہ سرحدیں تہذیبوں کو مٹا نہیں سکتی۔ جس طرح اس مارچ کا استقبال ڈی جی خان اور تونسہ میں کیا گیا وہ ایک مشترکہ درد کی عکاسی تھا۔ اسی طرح کے پی کے کی سرزمین پر ڈی آئی خان کے غیور پشتونوں نے بھی اس مارچ کو ایسے ویلکم کیا کہ مظلومین کے کاروان کو حوصلہ ملا مگر بلوچستان کی خون پر بننے اور پھلنے والا اسلام آباد نے یزیدیت کو بھی شرمندہ کیا۔ اہل کوفہ سے ہمیشہ یہ گِلہ کیا جاتا ہے اور یہ ٹرم (اہل کوفہ) اُن اقوام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو خاموش تماشاہی ہوتے ہیں، مگر اہل کوفہ کو بھی یہ فخر ہوگا کہ اُن کے بیچ کوئی خریدہ فاروقی نہیں تھا۔ 


آنٹی خریدہ فاروقی! کے سوالات دیکھ کر یہی پتہ لگتا ہے کہ اُنکی صحافتی تربیت گھر میں بیھٹے چند انڈین چینلز کو دیکھ کر ہوئی ہے جہاں اینکر گلہ پاڑ کر اپنے من پسند سوالات کے جوابات کے لیے چلّا رہی ہوتی ہے۔ خریدہ کی برگر صحافت کسی کینٹ کے لیے تو ہوگا مگر انھیں یہ بنیادی اخلاقیات کو سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہاں کون سا سوال کس سے پوچھنا چاہیے۔


خریدہ آنٹی! آپ کا یہ انداز اور یہ سوالات آپ کے اُس سوچھ کی عکاسی کرتے ہیں جس میں آپ نے مان لیا ہے کہ آپ کی فوج الگ ہے اور اِن در بہ در بلوچوں کی فوج الگ، آپ اپنے فالج زدہ ذہن میں یہ تسلیم کرچکے ہیں کہ آپ کی ریاست الگ ہے اور بلوچ کی الگ۔ آپ یہ ثابت کرنے کے لیے کس قدر ذہنی پسماندگی کا شکار ہیں کہ ریاست بلوچوں کو لاپتہ کرکے غلطی کر رہی ہے اور بلوچوں کی ریاست پنجابی مزدوروں کو مار کر ظلم۔ آپ اپنے طورپر کسی کینٹ والے سے خریدے گئے اعلی و عظیم سوالات کر رہے ہونگے مگر دنیا آپ کی سوچ پر ہنس رہی ہوگی کہ کس طرح آپ نے خود سے یہ معیار بنا لیا ہے کہ پاکستانی فوج بلوچوں کو لاپتہ کرنے اور بلوچ نسل کُشی کررہی ہے تو بلوچوں کے فوج بی ایل اے و بی ایل ایف وغیرہ بھی تو بلوچستان میں پنجابی مزدوروں کو قتل کر رہے ہیں۔۔۔۔


آپ کے پلانٹڈ اور جی حضوری والے سوالات صحافت کے لیے بدنما داغ تو ہیں ہی مگر کس طرح اس ریاست کو مزید شرمندہ کر رہے ہیں، یہ آپ کو احساس بھی نہیں ہوگا کہ آپ نے کیسے دو الگ ریاست بنا لیے، آپ ذہنی طورپر یہ مان چُکے ہیں کہ بلوچ آپ سے الگ ہیں۔ آپ کی جسٹیفکشن یہ ثابت کر رہیے ہیں کہ کیسے آپ اس ظلم کو برابری کی بنیاد پر تقسیم و تسلیم کرچکے ہیں کہ ریاست بلوچ نسل کُشی کررہی ہے تو بی ایل اے و بی یل ایف وغیرہ بھی تو بلوچستان میں پنجابی مزدوروں کو مار رہے ہیں۔ آپ کی سوچ جبری گمشدگیوں کو جائز مان چکی ہے۔ آپ کی اِس سوچ نے بلوچستان سے خریدے گئے سرفراز بھٹی اور دوسرے آپ کے لوگوں بھی شرمندہ کیا جو اسی لیے بنائے گئے تھے کہ آپ یہ سوالات اُن سے پوچھیں اور وہ آپ کو آپ کا من پسند جواب دیں۔ پھر سوال بھی آپ کا، جواب بھی آپ کا اور سوال و جواب کرنے والے بھی آپ کے، بلکیں باپ کے۔ 


ڈاکٹر ماہ رنگ اور یہ بلوچ مائیں، بچیاں اور بوڈھے لاپتہ افراد کے لواحقین سے بحیثیت کیا آپ یہ سوال پوچ رہی ہیں؟ بحیثیت بلوچ؟ کہ میں اپنے فوج کی غلطیان مان رہی ہوں آپ اپنے مان لیں؟ اگر ایسا ہی ہے تو آپ کی سوچ کو کتنے تھوپوں کی سلامی دی جائے؟ پھر تو آپ اس سوال کے لیے جواز بنارہی ہیں کہ آپ کی فوج بلوچستان میں کیا کررہی ہے؟ آپ نے توڑی دیر کی چاپلوسی میں ریاست اور اُن کے اداروں کی ”میوزک“ بجا دی۔  

اور اگر یہ لاپتہ افراد کے لواحقین آپ کے من پسند جوابات دے بھی دیں جس سے آپ کی تنخواہ میں اضافہ ہو، لیکن اگر یہ کہہ دیں کہ چلیں آپ بھی ایک لانگ مارچ کریں یہ بلوچ عورتیں آپ کی سربراہی میں اسلام آباد سے کوئٹہ پیدل مارچ کرینگی، آپ کر پائینگی؟ یہ بلوچ عورتیں تو عادی ہیں آپ اسلام آباد کی آسائشوں میں پرورش پانے والی برگر آنٹی یہ کرپائینگی؟ 


آپ کی سوچ پر تو کئی گھنٹوں کی خاموشی بھی بے کار ہے مگر ہاں آپ کی چاپلوسی، جہالت اور اس حرکت پر یہ بنتا ہے کہ واجہ محمد حنیف کا واپس کیا ہوا صدارتی ایوارڈ آپ کو دیا جائے۔۔۔

Monday, 25 January 2021

بی ایل کا کمانڈر ماردیا گیا ہے، اس لیئے حالات خراب ہیں

بی ایل کا کمانڈر لڑکی ماردیا گیا ہے، اس لیئے حالات خراب ہیں


ویران سڑکیں، سخت پہرے اور انتظار میں کھڑی آنکھیں اور ان سب سے زیادہ ایک نفرت، یہ نفرت عمومی نفرت سے جدا ہے کیونکہ عموما  نفرت جبر، ظلم و بربریت کے خلاف ہوتی ہے لیکن یہ نفرت اس خوف کے خلاف ہے جس کے سائے میں یہ نظام اپنے آخری سانسوں کو دن بہ دن بڑھاتا جارہا ہے۔ 


سوچھا کہ یہ تحریر ان سائیٹس کے لیئے لکھ کر بیھج دوں جہاں پہلے بھی میرے بلاگز اور تحریر کچھ نا کچھ پبلش ہوتے رہے ہیں لیکن بحیثیت ایک بلوچ صحافت کے طالب علم میں شروع دن سے یہ جانتا ہوں کہ اردو آن لائن میڈیا میں جتنے بھی صحافتی میدان کے نام ہوں انکی مثال اس نظام کے ان مُلاؤں، انسانی حقوق کے کارکن و فیمینسٹ اور جمہوریت کے دعویداروں کے جیسا ہے جو صرف ٹائم پاس کرتے ہیں اور بلوچستان سے متعلق کوئی بھی خبر، تحریر اور کچھ بھی ان کے اس نظام میں پروان چڑھے سوچ میں ان کے لیئے محظ چند الفاظ ہونگے۔ 


کاروان ءِ شہید کریمہ کی انتظار میں گوادر زیرو پوائنٹ سے لیکر کلاچ، دشت اور ڈی بلوچ تک کئی لوگ ڈر اور خوف سے نفرت کرتے ہوئے کھڑے تھے مگر اس سے کئی گنا زیادہ خوف  ریاستی مشینری میں دیکھا جارہا تھا جو آنکھیں پاڑ کر اپنے گزشتہ ستر سالوں سے کیئے گئے آقاؤں کے جبر و خوف کے نظام کو ہر طرف پھیلاتے گزر رہے تھے اور شاید ان آقاؤں کو دل ہی دل میں بدعائیں بھی دے رہے تھے جن کی منصوبہ بندیوں کی وجہ انھیں بھی آج ایک لاش کو اغواہ کرکے راستے میں چرواہوں، طالب علموں ، خواتین و بچوں سے چھپا چھپا کر لے جانا پڑ رہا تھا اور جہاں اپنی طاقت کے خوف کو شکست کردہ دیکھ کر بچوں اور نوجوانوں کی صورت جنھیں دور سے موقع ملتا اور وہ سلامی لیئے حاضر ہوتے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے لاہور کی میڈیا، پنڈی کی دیواریں اور اسلام آباد کی ایوانوں کو اس ایک لاش سے اس قدر خطرح ہے کہ اسے اپنے ایٹم بم سے زیادہ اہم سمجھ کر چھپا رہے ہیں۔


کاروان میں شامل چند گاڑیوں کو جب زبردستی روک کر واپس کیا گیا تو ایک بچارہ سپاہی کہتا ہے " تمھیں پتہ ہے بی ایل اے کا کمانڈر لڑکی مار دیا گیا ہے، حالات بہت خراب ہیں اس لیئے اس طرف کسی کو جانے کی اجازت نہیں، آگے کرنل صاحب کھڑے ہیں"


پتہ نہیں اس کرنل صاحب نے کیا سوچھ کر یہ حکم دیا تھا مگر اس سے پہلے والے کئی اسی عہدے پر رہنے والوں کی وجہ سے اس کی بلیڈ پریشر اور نفسیات پر بہت برے اثرات پڑے تھے جس نے سخت ترین کرفیو، کمیونکیشن کے تمام طریقے مکمل بند کردیئے تھے۔ کیونکہ اس سے پہلے کریمہ بلوچ ایک عام بلوچ طالب علم کے لیئے صرف ایک طالب علم رہنماہ تھی جو پدر شاہی قدامت پسند کہلانے والی بلوچ سماج، پیداگیر اور موقع پرست سرداروں اور چند دیگر پارلیمانی سوداگروں کے لیئے ایک مزاحمت کی علامت تھی مگر ریاست اور ان کے منصوبہ سازوں کے لیئے ان کی لاش اس قدر خوف کی علامت ہے یہ ان کی موت نے عیاں کردیا۔


رات گئے تک سخت سردی میں کھلے آسمان تلے بیھٹے بچے و خواتین اور راہ گیر جو اپنے اپنے گھروں تک جانے کے لیئے ڈی بلوچ چوک تربت میں راستے کھلنے کا انتظار کررہے ہیں۔ ان کی نسلوں میں سے چند ایک کل کو شاید ہی کسی کالے شیشوں والے گاڑی میں بیٹھ کر چند پیسوں اور پروٹوکول کے لیئے ناجائز طریقے سے محب وطن کہلائیں مگر یہ ان پڑھ مائیں، بچے و بوڑھے بھی جب کرفیو کھلنے کے بعد اپنے گھروں کو لوٹینگی تو کریمہ کی موت اور نظام کی جبر کو نہیں بھولینگی۔ اب اس نظام سے زیادہ یہ لوگ اپنے اندر کے خوف سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ جسے چند پیسوں کا تنخواہ دار اپنے ملازمت تک تو شاید کیسے بھی برقرار رکھ سکے مگر اپنی نسلوں کو اس عارضی منصوبہ بندی سے تباہ کردے گا۔۔۔۔ کیونکہ جب وہ عام سپاہی کل کو گھر لوٹے گا یا انکے بچے انھیں بتائینگے کہ ایک لڑکی کی میت کے وقت    ایسا کیا گیا تھا تو ۔۔۔۔۔۔

@JavedGwadari

Saturday, 26 December 2020

کریمہ بلوچ مزاحمت کی علامت


کریمہ بلوچ کی موت بلوچستان کے لیئے سانحہ: وہ سرداری نظام اور پدرشاہی معاشرے کے خلاف کھڑی ہوئیں

 


پیر کی رات دیر گئے سوشل میڈیا پر ایک خبر بلوچستان کو افسردہ کرگئی۔ یہ خبر ایسی تھی کہ جسے پڑھ اور دیکھ کر بھی کئی لوگوں نے اس لیئے دیکھی ان دیکھی کرنے کی کوشش کی کہ شاید یہ خبر جھوٹی ہو۔ بلوچستان سے سماجی کارکن جلیلہ حیدر سمیت کئی دوسرے بلوچ صحافی، طالب علم اور سماجی و انسانی حقوق کے کارکن جیسے کچھ کہہ بھی رہے تھے اور کچھ چھپا بھی رہے تھے ۔ لیکن رات کے بچے کھچے چند گھنٹے پتہ نہیں کیسے گزرے کہ صبح ہوئی تو حسب معمول بلکہ فورا اور دانستہ طورپر سوشل میڈیا کھول کر دیکھنا چاہا کہ ہوسکتا ہے رات کی بات ایک خواب ہی ہو؟ مگر سوشل میڈیا کی  تمام سائٹس 
پر سیاہی چھائی ہوئی تھی۔
گوادر میں کریمہ بلوچ کے لیئے احتجاج، شمعیں روشن

بلوچستان اور دنیا بھر کے بلوچوں کے علاوہ کئی صارفین کی پروفائل تصاویر سیاہ تھیں۔ اور خبر ایک لاپتہ شخص کی ملی ہوئی لاش کی لگی ہوئی تھی۔  بلوچستان اور بلوچوں کے لیئے لاپتہ کا لفظ نیا  ہے اور نہ ہی لاش کی خبر۔ کیونکہ بلوچستان کی ایک ایک قبر میں کئی افراد کی لاشیں دفن ہوئیں ملتی ہیں اور اکثر سیاسی، سماجی اور طلبہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے یا غیر بلوچوں کی لاشیں بھی ملتی رہی ہیں لیکن اس دفعہ بلوچستان کی طرز کا یہ واقعہ سات سمندر پار انسانی حقوق کے حوالے سے مہذب مغربی دنیا کے حصے ملک کینیڈا سے تھا۔ اور خبر یہ تھی کہ بلوچ انسانی حقوق کی کارکن اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیش کی سابقہ چیئرپرسن کریمہ بلوچ کی لاش دو دن لاپتہ رہنے کے بعد ٹورنٹو کے قریب ایک جھیل کنارے سے ملی ہے۔
اس سے پہلے ایک بلوچ صحافی ساجد بلوچ کی لاش مئی میں ایک مہینہ لاپتہ ہونے کے بعد سویڈن سے ملی تھی۔ ان دونوں واقعات کے بعد بلوچستان کے سیاسی، صحافتی اور انسانی حقوق کے حوالے سے سرگرم سرکلز میں ایک سوال شدت کے ساتھ پوچھا جارہا ہے کہ اب بلوچ جائیں تو جائیں کہاں؟ اور مغربی دنیا کے دعووں اور انسانی حقوق کے حوالے سے انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں اور ایک ایسا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے کہ جیسے بلوچستان کے ہر شخص کے لیئے پاؤس کا بٹن دب چکا ہے۔
کریمہ بلوچ کی یہ خبر بھی حسب معمول پاکستانی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر بلوچستان سے تعلق کی وجہ سے چل نہ سکی مگر انٹرنیشنل اور سوشل میڈیا پر ضرور زیر بحث رہی اور اب بھی خبر بنی ہوئی ہے۔ کریمہ بلوچ کی اس طرح کی موت پر کئی سوالات، شکوک شبات ضرور پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن بلوچستان میں ان حالات میں کریمہ بلوچ کے لیئے اس قدر احتجاج ، افسردگی، اور غم و پریشانی کا اظہار اور وہ بھی کھل کر اظہار کرنے کی وجوہات کیا ہوسکتی ہیں۔۔۔۔ یہ بھی سوچنے کی بات ہے۔
کریمہ نے اپنے لیئے جو راستہ چنا تھا وہ بلوچ طالب علم سیاست کے لیئے کوئی نئی اور عجیب بات نہیں تھی۔ کیونکہ بلوچستان کے کئی سیاسی طالب علم کارکن لاپتہ ہیں تو بہت ساروں کی مسخ شدہ لاشیں بھی ملی ہیں۔ بقول کریمہ بلوچ کی والدہ کے کہ جب انھیں بھی کریمہ کی موت کی خبر دی گئی تو وہ بھی نہیں روئیں کیونکہ انھیں بھی کریمہ کی سیاست اور اپنے لیئے چنے ہوئی راستے کا علم تھا۔ لیکن اس ماحول میں ایک عام بلوچ کے لیئے کریمہ کی یہ موت اس قدر دردناک کیسے ہوئی؟ اور کیونکر ہر وہ بلوچ جو کسی سرکاری اعلی ملازمت پر فائز ہو یا عام طالب علم، سب یکساں غم میں مبتلا کیوں ہیں؟



اس کیوں کی وجہ بھی کریمہ کی طلبہ سیاست ہی ہے۔ کیونکہ کریمہ نہ صرف ایک ایسی سیاست کررہی تھی اور ایک ایسی تنظیم کی رکن تھیں جو نہ صرف ریاست کے لیئے کالعدم تھی بلکہ بلوچ سرداری، جاگیرداری، اشرافیہ و طبقاتی نظام کے خلاف ایک آواز تھی۔ وہ ایک قدامت پسند کہلانے والے بلوچ معاشرے میں اس وقت طلبہ سیاست کی سرگرم قیادت بنی جب بلوچ مرد بھی خوف کے سائے میں ایسی جرات نہ کرسکے۔

وہ بلوچ خواتین کے لیئے بیداری کی وجہ بنی اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کو اس وقت سنھبالے رکھا جب اس تنظیم کو ناں صرف ریاست کی طرف سے پابندیوں کا سامنا تھا بلکہ سرداروں، جاگیرداروں اور اشرافیہ کے لیئے بلوچ معاشرے میں سیاسی شعور اور برابری کی بات کرتی رہی۔ پدرشائی اور سرداری نظام کو للکارتی رہی اور لاپتہ بلوچوں کے لیئے آواز بلند کرتی رہی۔
جب بلوچستان میں طلبہ سیاست  شجر ممنوعہ قرار پایا تو وہ بلوچ طلبہ کی قیادت کرنے آگے آئی اور انھیں کسی سردار کے درباری یا کسی کے الیکشن مہم میں جھنڈے لگانے سے بچانے کے لیئے بلوچ قومی تحریک اور مظلوم اقوام کی حقوق کے لیئے متحرک کرنے کے لیئے کام کرتی رہی۔ اگر ریاست اور بلوچستان کے سرداروں کا گھٹ جوڑ، بلوچستان کے اکثریتی گُڈ سرداروں کی حکمرانی اور ریاست کی پشت پنائی بجائے ان سرداروں کی، آئین و قانون اور انصاف و انسانی حقوق کی آزادی پر ہوتی تو شاید کریمہ ملک چھوڑ کر دیار غیر میں سیاسی پناہ نہ لیتی۔


کریمہ کہ موت نہ صرف ان کے تنظیم اور خاندان کے لیئے افسوس ناک ہے بلکہ ہر ایک عام انسان کے لئے جو جاگیرداری، سرداری، مافیاز، اور عورت دشمن سماج کے خلاف لڑ رہا ہے۔ اور خصوصا بلوچستان جیسے زمین کے لیئے تو یہ موت کربلا سے کم نہیں جہاں ایک عام بلوچ طالب علم کے لیئے پڑھ لکھنے کے باوجود بھی کسی سردار، میر، نواب یا کسی سوداگر کے تابع ہوکر زندگی گزارنا لازم ہو تاکہ حاصل کردہ علم کسی سرکاری ٹھیکہ یا پارٹی میں عہدے کے لیئے کام آسکے۔
بلوچستان واقعی ہی غم زدہ ہے کیونکہ نہ تو کریمہ کوئی سردار تھی نہ ہی سرکاری شخصیت۔ باوجود اس کے وہ ایک عام بلوچ طالبہ تھی جو عام بلوچوں کی کئی پابندیوں کی شکار طلبہ تنظیم کی رکن اور لیڈر کے حیثیت سے اندرون بلوچستان کے جاگیرداروں، سرداروں اور سرمایہ داروں کے لیئے خطرہ تھی بلکہ آئین و قانون کی مالک ریاست کے لیئے بھی کالعدم کا درجہ رکھتی تھیں۔
شکریہ نیا دور

Monday, 23 March 2020

کرونا! کچھ ایسا بھی کرونا


اس وقت دنیا سر جھوڑ کر بیٹھ چکی ہے، سڑکیں ویران ہیں لوگ گھروں میں محدود ہیں شاپنگ مال، دفاتر، پارک اور یہاں تک مذہبی مقامات تک بند پڑے ہیں کیونکہ عالمی وباء جس تیزی کے ساتھ آئی اور آکر تباہی پھلا رہی ہے یہ سب کچھ اس جدید دور میں عجیب بلکیں بہت الگ کفیت لگ رہا ہے مگر مندرجہ بالا تمام تر لاک ڈاؤن صرف باقی دنیا کے لیئے ہے ہمارے لیئے منظر نامہ کچھ مختلف ہے


جس طرح دنیا بھر میں تعلیم نظام بندش کا شکار ہے ویسے ہمارے ہاں بھی ادارے بند ہیں مگر یہاں وہ طالب علم گھروں یا ہاسٹلز میں نہیں بلکیں ساحل سمندر کی سیر، پکنک اور سیر و تفریح میں چھٹیاں گزار رہے ہیں  باز تو ان تعطیلات کو کرونا ویکیشن کا ایک نیا ٹرم اور نام دے رہے ہیں اور خدا نا خواستہ ایسا تاثر دے رہےہوتے ہیں کہ جیسے سمر اور وینٹر کی طرح ہر سال یہ ویکیشنز ہوں، نا بازار بند ہیں اور نا ہی عبادت گائیں بلکیں عبادت گاؤں کی بات تو اس قدر خطرناک ہے کہ حکومتی ادارے بھی احطیاطی تدابیر بتاتے وقت سوچ بچار میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور جان کی امان پانے کا سوچ رہے ہوتے ہیں۔

ہم اتنے مذہبی ہیں کہ اپنی مسلک کی بنیاد پر سعودی اور ایرانی عقیدت کا اظہار اگر نہ بھی کرتے ہوں تو ان کے معاملات پر آپس میں ضرور خون گرما دیتے ہیں لیکن اس صورت حال میں ہم ان سے بھی آگے نکل چکے ہیں، ایرانی اور سعودی احکام نے اس وباء سے بچاؤ کے لئے احطیاطً مذہبی مقامات اور اجتماعات پر پابندی لگائی ہے مگر ہمارے ہاں تو  پہلے اسے کافر وائرس قرار دے کر غیر مسلموں پر عذاب کہا گیا بعد میں اسے مسلکی بنیادوں پر ایک فرقہ کے ساتھ جوڑا گیا اور اب اسے مسلمانوں پر اللہ کی طرف سے آزمایش ۔۔۔۔

اس سب کے بیچ احطیاطی تدابیر اور روک تھام نہ نونے کے برابر دکھائی دے رہے ہیں، اب ایسے میں مزید نصیتیں بے کار سی لگنے لگی ہیں کیونکہ جیسا عوام ویسا حکمران بھی تو ہیں۔ ہمارے زمہ دار وفاقی اور صوابائی وزراء اس صورت حال میں بھی  عامل اور پھونکوں والے بابوں کی طرح روز ایک نیا بیان جاری کرتے ہیں، کوئی پیناڈول کو علاج بتاتا ہے تو کوئی اموات کی شرح کو کم اور تسلی بخش اور بلوچستان جیسے صوبے میں جہاں صوبائی حکومتیں اپنا سارا سیزن وفاق کا وفادار ہونے میں گزارتی ہیں اب انھیں شکوہ ہے ان کی خدمات کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ خیر ایسے صورت حال میں اب نہ تو حکومت کی طرف کسی قسم کی روک تھام پر آسرا لگایا جاسکتا ہے اور نہ ہی عوام پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے اب کرونا ہی سے کچھ مطالبات کرسکتے ہیں

کرونا! یہ تو پتہ نہیں تم کیسے آئے مگر پلیز اب جانے میں  جلدی کرونا۔

کرونا! صرف تباہی کیوں پھلا رہے ہو؟ کرنا ہے تو کچھ ایسا کرونا کہ اب ہر انسان کو یہ احساس ہوجائے کہ سائنس اور تعلیم کا شعبہ ہی سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، صحت کو درپیش مسائل کو حل کرانے میں اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرانے میں دنیا بھر کے زمہ داروں کو ایک صفہ پر اکھٹا کرونا۔

کرونا! ہماری سرزمین پر پچھلے کئی سالوں سے تم جیسا ایک اور خطرناک وباء پھیلی ہوئی ہے جو زندہ انسانوں کو اٹھاکر غائب کردیتی ہے اور سالوں سال ان کا کوئی پتہ نہیں چلتا، ان لاپتہ افراد کو بازیاب کرونا۔

کرونا! ہماری تنگ اور ناکس مٹیریل سے بنائے ہوئے سنگل سڑکیں جنھیں قاتل شاہرائیں کہا جاتا ہے جہاں روزانہ کئی قیمتی جانیں لقمہ اجل بن جاتی ہیں انھیں ڈبل کرونا۔

کرونا! اب اسلحہ کی دھوڑ میں بازی لے جانے والے ظالم اور جاہل انسانوں کو مجبور کرونا کہ وہ مزدور، کسان اور مائی گیروں کی معاشی بہتری کے لیے بھی سرمایہ لگائیں اور کرونا! ایک یہ چھوٹا سا کام بھی کرونا کہ زات پات اور جنسی برتری اور کم تریں میں پھنسے انسانوں کو انسان کرونا۔۔۔۔ 

کرونا! اگر تم بھی مجبور نہیں ہو تو پلیز آزادی اظہار رائے اور ہمارے ملک کے میڈیا پرسنوں کو صحافی بنا کر انھیں کچھ شعور اور علم بھی عطا کرونا۔

Tuesday, 7 January 2020

بی بی سی اردو ءِ ھلاسی ءُ بلوچستان

جاوید بلوچ

 دسمبر 2019 ءِ روچ برکت بوھگءَ گوں نہ تہنا یک سالے ھلاس بوت بلکیں یک دہکے ھم آسر بوت ءُ ھمے روچ ءَ جہانی شنکاریءِ یک مزنیں ادارگے کہ آئیءَ بی بی سی اردو گُش انت، آئیءَ ھم وتی میڈیم ویوز ءُ شارٹ ویوزانی اردو شنکاری ھلاس کنگءِ جار جت، ھمے گڈی مراگش آئیءَ ریڈیو شنکاری، ویب سائٹ ءُ سوشل میڈیا بزاں فیس بکءَ تچکائیءَ پیش داشت ءُ گوشدارائینت.


اے مراگشءَ بی بی سی ءِ بازیں گوشداروکانی گلہ ءُ ٹیلی فونءِ سرءَ کُرتگیں کلوہ ھم شنگ کنگ بوت انت کہ ریڈیو مراگشانی ھلاس کنگءِ سرءَ گوش داروک نا وش ات انت، اے گوشداروکانی تہہءَ بازیں چہ بلوچستان، پختونخواہ، اندری سندھ ءُ زرباری پنجابءَ اتاں، آ وتی ایوک ءُ تہنا جہانی ھالانی وسیلہ بی سیءَ لیکگءَ اتاں ءُ بی بی سیءِ کارندہ ھم ھمے گپءَ جنگءَ اتاں کہ آہانی دہرءَ آہاں ھمے مار اِتگ کہ بی بی سی اردو دور دراجیں دمگانی توار انت، ھما دمگ چہ آہانی نامءَ ملکی میڈیا نا آشنا اِنت.


بی بی سیءِ گُشگ اِش انت کہ نو وھدءَ سک باز دیمرئی کتگ، ٹیکنالوجی ودّ اتگ، انٹرنیٹ ءُ سوشل میڈیا ہر ھما ہندءُ دمگءَ رَستگ کہ اودءَ یا ھمک ھما جھگہءَ سر اِنت کہ پہ آہاں بی بی سیءَ وتی اردو شنکاری، حالات حاضرہ ءُ جہانی ھالانی سرءَ کواسانی ھیال ءُ لیکہ شنگ کُرتگ انت، نو سوشل میڈیا کارمرز بوئگءَ اِنت، پمیشکہ نو ریڈیوءِ مراگش بے سوب اَنت، بزاں اے بی بی سی یا برطانیہ سرکارءِ نیمگءَ یک کلوہے کہ آہانی ٹارگٹڈ ایریہ یا ھما ھندءُ دمگ کہ آہانی ھاترءَ بی بی سیءَ مزنیں بجٹے ھرچ ءُ درچ کُتگ، ریڈیو مراگش شنگ کُتگ اَنت اودءَ نو اشیءِ ھچ زلورت نہ اِنت، ءُ ھمے راستی انت،


بگندئے کہ بازیں مردماں بلکیں دور راجیں دمگانی سک باز مردوماں اے راستی جوان مہ لگیت پرچہ کہ آ چہ مزنیں مدتےءَ گوں بی بی سی اردوءَ بندوک بوتگ انت ءُ آہانی گورءَ دگہ ھچ آسراتی نیست کہ آ چہ جہانی پلگاریں ھالاں سرپد بہ بنت، بلے ادا جُست اے چست بیت کہ زاناں پہ آہاں کدی اے شنکاری شنگ کنگ بوتگ اَنت؟



ھما مہلوک یا دمگ اے گلہءَ کن اَنت کہ آ چہ جہانی ھالاں ءُ سرپدیاں چہ زبار کنگ بوئگءَ اَنت، آہاں زانگ لوٹیت کہ آ وَ ھچ بر ھما ٹارگٹڈ ایریہءِ تہہءَ نہ بوتگ اَنت کہ پہ آہاں اردوءِ شنکاری گواتی موجانی سرءَ شنگ کنگ بہ بیت، ءُ ھما کہ اے ھدّءُ ھویلاں بوتگ انت آہاں نوکیں دابءُ ٹیکنالوجیءِ سرءَ بی بی سی اردوءِ شنکاری رَسگءَ اَنت.


ادا یک چیزے المءَ زانگ لوٹیت کہ دنیاءِ ملک چتور ءُ پہ کئےءَ وتی شنکاریءَ شنگ کن انت؟


دومی مزن جہانی جنگءَ چہ ریڈیو شنکاریانی ارزشت بندات بیت ءُ ادا ریڈیو را ھشتمی مزنیں طاقت گُشگ بوت، جرمن پروپیگنڈہءَ نازی پارٹیءِ ھیال ءُ لیکہ ھمک جرمنءَ سر کنگءُ ہٹلرءَ جہانءِ مستریں بامرد پیش دارگء،َ یہودیاں جہانءِ ھراب تریں مردوم ثابت کنگ ءُ آہانی کُشگ ءُ ھلاس کنگءَ شَر لیکگءَ بگر داں برطانیہءِ شنکاری، اے درست ریڈیوءِ سببءَ کنائینگ بوتگ انت.

برطانیہءِ ھلاپءَ ھر وڈیں شنکاریءِ بندات جرمن وزیر جوزپ گیوبلءَ بندات کُت اشیءِ تہہءَ سوبین بوت، ھمے وڑءَ ایڈورڈ آر مرو برطانیہءِ جنگءَ انچوش پیش کنت کہ لس مردمءِ جنگ بہ بیت، نازیانی سوبمند بوئگءَ پد روز ولٹءِ امریکی سرکار ریڈیو شنکاریاں انچوش کارمرز کنت کہ وائس آف امریکہ جہانءِ جوانتریں شنکاری ادارگ جوڑ بیت، امریکہءِ ہر مردم فوجءَ بھرتی بیت ءُ امریکہءِ مہلوک برطانیہءِ رکینگءَ امریکہءِ رکینگ لیک انت، داں جنگءِ آسرءَ امریکہ جاپانءِ سرءَ ارش کنت ءُ جہانءِ سپر پاور جوڑ بیت.

گُشگ بیت کہ ایڈورڈ آر میرو ھالانی پیش کنگءَ انچو زبر بیت کہ لندنءِ سرءَ بوتگیں بمب گواریءَ انچو پیش کنت، گوشداروک بمبانی توار، ھون ریچی ءُ تباہیءَ مار اَنت ءُ لس مردوم سک متاثر بنت، جاپانءِ ھلاپءَ ھم امریکہ انچیں مراگش شنگ کنگ بندات کنت کہ لس امریکی دومی جہانی جنگءَ امریکہءِ جنگ سرپد بوئگءَ لگ انت،


جنگانی وھدءَ ریڈیو انچو کارمرز بوتگ کہ نامداریں بامرد، سیاستدان ءُ ریڈیوءِ توار کارانی توار ءُ نامداریں مراگش دُزگءُ گیگان کنگ بوتگ اَنت ءُ دروگیں ھال شنگ کنگ بوتگ، دومی جہانی جنگءِ وھدءَ ٹوکیو روز ءِ نامءَ انچیں توارے ءُ ہوم سویٹ ہوم ءِ وڑیں مراگش دزگ بوتگ یا کارمرز کنگ بوتگ انت داں دژمن بہ ترسیت ءُ جنگءِ پڑءَ یلہ بہ دنت.


ھمے وڑءَ ویتنامءِ جنگءَ بگر داں بنگلہ دیشءِ جوڑ بوئگء َ( کہ کشگ بیت آل انڈیا ریڈیوءَ مزنیں کردءِ ادا کتگ) ءُ عراقءُ اوگانستانءِ جنگانی تہہءَ ھم ریڈیوءِ شنکاری کارمرز کنگ بوتگ انت داں مہلوکءِ ھمدردی وتی نیمگءَ چکگ بہ بنت ءُ وتی لیکہ مہلوکءِ پگرءِ تہہءَ مان کنگ بہ بیت.

دنیا جہانءِ ہر ھمک ملکءُ سرکار وتی نپ ءُ پائدگءَ کار کنت، چہ آ کاراں اگہ دگہ راج ءُ دمگےءَ نپ رسیت یا تاوان، اے آہانی جیڑہ ءُ جنجال نہ انت، ھمے وڑءَ اگہ بی بی سی اردوءِ شنکاریانی ھلاس بوئگءَ بلوچستانءِ دور ءُ دراجیں دمگ (کہ ادا بجلی ءُ ورگی آپ نیست، انٹرنیٹ سک مزنیں گپے) چہ جہانی ھالاں زبار بنت، اے بی بی سیءِ جیڑہ نہ انت چیاکہ اے دمگ بی بی سی اردوءِ ٹارگٹڈ ایریہ نہ بوتگ انت.
@JavedGwadari 

Wednesday, 20 November 2019

زندہ ہیں طلبا ٕ

 جاوید بلوچ


کہتے کہ جب خاموشی انتہا کو پہنچٕے تو سمجھ لینا چاہیے کہ دھماکہ ہونے کو ہے کیونکہ بلا وجہ تو سمندر کی موجیں بھی خاموش نہیں رہتی اور انقلابیوں کو یہ بات وراثت میں وسیعت ملی ہے کہ قابض اور سامراج اگر اونچا بھی نہ سنے تو دھماکہ کرنا لازمی ہوجاتا ہے، ایک کامریڈ  نے تو یہ تک کہہ دیا تھا کہ میرے جنازے کو بھی دھوم دھام سے نکالو تاکہ پتہ چلے کی ایک انقلابی کی میت جارہی ہے۔

طلبإ ایک ایسی قوت اور جماعت کی نام ہے جو مختلف گھرانوں، تہذیبوں، جغرافیہ اور قوموں سے نکل کر ایک ادارے میں داخل ہوتے ہیں اور نکل کر قوم، ملک اور سلطنت کے والی و وارث بنتے ہیں بشرطہ کہ سرمایہ دارانہ نظام کے چند خاندان اس قوم، ملک اور سلطنت کو یرغمال نہ بناتے ہوں، کیونکہ یہ جاگیردار اپنا دن دولت اور طاقت کو ہر حد تک استعمال کرتے ہیں کہ حق حکمرانی ان کے ہی پاس رہے۔

اس وقت ایشیا میں چلنے والی کٸی تحریکوں میں طلبإ تحریک صفے اول کی تحریکیں ہیں جن میں  دنیا کی سب سے بڑی جمعوریت کہلانے والی ملک ہندوستان کے دارلحکومت نٸی دہلی کے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علموں کی احتجاجی تحریک بھی شامل ہے جو ایک سخت گیر انتہا پسند جماعت کی حکومت کے خلاف اپنے بنیادی حق تعلیم، تعلیم دشمن پالیسیوں اور ایک اونچے طبقے کی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں، ان طلبإ کے مطالبات بس اتنے ہی ہیں کہ یکساں نظام تعلیم ملک میں راٸج ہو، ملکی بجٹ کو خطرناک اسلحہ کی خرید و فروخت اور ایک طبقے پر لگانے کی بجاٸے سستی اور معیاری تعلیم پر لگایا جایا مگر نہ تو یہ بات اسلحہ پسند سرمایہ دار حکومت کو پسند ہے اور ناں ہی سرمایہ دار نظام کی پیداوار اشتہاراتی میڈیا کو،

اسی لیے اس طلبإ احتجاج کو کچلنے کیلیے نا صرف انتہا پسند سرکار طاقت کا وحیشیانہ استعمال کرکے دنیا کی سب سے بڑی جمعوریت ہونے کو داغ دار کررہی ہے بلکیں اشتہاراتی میڈیا اور ان پر بیٹھے زرد صحافت کرنے والے براٸے نام صحافی حضرات بھی چیخ چیخ کر اپنا گلا خشک کررہے ہیں کہ یہ ٹکڑے ٹکڑے گنگ ملک دشمن اور غدار ہیں،


  اسی طرح ہانگ کانگ کے نوجوان طلبإ بھی بھی اس وقت کی حکومت کے خلاف مزاحمتی تحریک کا حصہ ہیں جو اُن کی نظر میں انکے شناخت کی جنگ ہے جسے دنیا کی ابھرتی ہوٸی سرمایہ دار طاقت اور نامنہاد کمیونسٹ ملک سے اپنی بقإ کو درپیش مسٸلہ سمجھتے ہوٸے اپنی قابض حکومت سے لڑرہے ہیں، وہاں بھی اس تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت اور بین الاقوامی سرمایہ دار نظریہ کی تعاون کے سے ختم کرنے کی کوشش جاری ہے

اس وقت پاکستان میں طلبإ یکتہجی مارچ بھی چل رہی ہے جو کامریڈ فیض کے نام سے منسوب میلے کی مناسبت سے جاگ اٹھی ہے جہاں نعرہ تو لگایا جارہا ہے کہ ”فیض تیرا مشن ادھورہ، کرینگے ملکر ہم پورا“ اور لال لال لہرانے کی بڑی بڑی باتیں بھی کی جارہی ہیں مگر خدشہ ہے کہ یہ لال لال کامریڈ فیض میلے کے ختم ہوتے ہی سیاہ رنگ میں تبدیل نہ ہوجاٸے

ہمیں معلوم ہے کہ شاید یہ تحریک اور نعرے اتنے زیادہ طول تک نہ جاٸیں جب بلوچستان کے لاپتہ طالب علم بازیاب ہوں، اس قدر بھی منظم نہ ہو کہ ملکی بجٹ میں سے تعلیم کا حصہ دفاعی بجٹ جتنا ہو، شاید ایسا بھی نہ ہو کہ محنت کش مچھیرے کا بچہ مفت ہاٸیر ایجوکیشن حاصل کرے، یہ بھی نہ ہو کہ ہر بچی اور بچہ جو اسکول میں داخلہ لے اور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو،


مگر کم از کم اتنا ہو کہ دوبارہ کسی تعلیمی ادارے میں کسی مشال  کا بے رحمانہ قتل نہ ہو، کسی میڈیکل کالج کی طالبہ کا خاموش قتل نہ ہو،
یہ لال لال اتنی جلدی سیاہ نہ ہو کہ جب کسی یونیورسٹی میں طلبإ کو جنسی ہراسمنٹ کا شکار بنیایا گیا ہو اور گرلز ہاسٹلز کی واشرومز کے بناٸے گٸے ویڈیوز موجود ہوں اور کیس رفع دفع ہو،

اور اتنی جلدی بھی لال لال کا رنگ نہ اڑ جاٸے جب جامعہ کراچی جیسی بڑی یونیورسٹی میں بواٸز ہاسٹل کی بلڈنگ موجود ہو مگر اس میں ملک کے دور دراز سے آٸے ہوٸے طالب علم نہ رہتے ہوں،

یہ مشن پورا کرنے والے سرفروش، زندہ طلبإ، ایشیإ کو سرخ کرنے سے پہلے اور سرمایہ دار طبقاتی نظام کے تعلیم دشمنوں سے یکساں نظام تعلیم راٸج کرانے سے قبل ہی محض فیض میلے کی اختتام کے ساتھ مرجا نہ جاٸیں۔

Saturday, 19 October 2019

مزاحمت کار، طالب علم لڑکیاں

جاوید بلوچ


سوچھا کہ عنوان کو "طلباء یونین وقت کی ضرورت" یا "جامعہ بلوچستان میں ہراسمنٹ کی بریکنگ نیوز اور بلوچ طلبہ" یا اسی طرح کا کچھ اور لکھ دوں مگر ایک لامحدود اور کئی حوالوں سے ایک جامع عنوان کے ساتھ شاید نا انصافی ہوتی، اسی لیے یہ عنوان دیا گیا ہے جسے پڑھنے والے تبدیل بھی کرسکتے ہیں،

خیر! خبر کچھ یہ ہے کہ فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی کو کچھ طلباء کی طرف سے شکایات موصول ہوئیں بہ حکم بلوچستان ہائی کورٹ کہ جامعہ بلوچستان کی انتظامیہ اور سیکیورٹی اہلکاروں کی طرف سے   طلباء کو خفیہ کیمروں کی مدد سے ان کی ویڈیوز بناکر انھیں بلیک میل کیا جارہا ہے، ان شکایات کا موصول ہوتے ہی ایف آئی اے نے ایکشن لیا اور کوئی باراں ایسے ویڈیوز حاصل کرلیے  جس میں جامعہ انتظامیہ اور سیکیوریٹی اہلکار ملوث پائے گئے ہیں، اب انتظار ہے کہ تفتیش ہوگی اور  نتیجہ نکلےگا کہ اصل مجرم کون ہیں،

چونکہ اس معاملے کا تعلق بلوچستان سے ہے اس لیے اس کی حساسیت اور تحقیق، غیر جانبدارانہ انوسٹیگشن اور اصل حقائق سب پر بہت سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں اور شاید نتیجہ بھی کچھ مختلف آئے، یا کچھ بھی نہ آئے، کیونکہ یہاں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے بلکیں جو کچھ جس طرح ہے، وہ بھی اس طرح شاید نہ ہو،

یہاں سب سے پہلی بات اس جزباتی بریکنگ نیوز کی ہے جو اس گرم خبر کے منظرعام پر آتے ہی گرم جوشی اور بھرپور جزبات کے ساتھ سوشل میڈیا پر زیربحث اور سراپائے احتجاج گروپس، تنظیم اور طالبعلموں کی ہے جو بلوچ ملی نغمے کے ایک جملہ "ما لجیں گوہارانی" کا ثبوت دے رہے ہیں، اب یہ بہنیں اور ان کی عزتیں اس ایک اسکینڈل یا واقعہ سے کس قدر متاثر ہوئی ہیں، مجھے بالکل بھی اس کا اندازہ نہیں، البتہ ایک چیز پر مجھے حیرانگی اور شدید قسم کی پریشانی بھی ہے کہ جنسی ہراسمنٹ اور جامعہ بلوچستان کی بچیوں، لڑکیوں یا عام الفاظ میں خواتین کا لفظ زیادہ استعمال کرکے شاید اس عمل کو لڑکوں، بچوں کے ساتھ جائز یا تھوڑا کم مسئلہ سمجھا جارہا ہے، یا ہوسکتا ہے مجھے ہی یک طرفہ اس معاملے کو لڑکیوں کے ساتھ جڑا ہوا ہونے کی تنگ نظری کی بیماری ہوگئی ہو.....

کیونکہ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں کیا یہاں امام مسجد جیسے محترم عہدے پر فائز درندے ، مدارس میں دینی تعلیم دینے والے استاد، راہ چلتے مسافر اور اپنے سگے رشتہ داروں سے لیکر دفاتر کے باس وغیرہ تک کئی لوگ اس جرم میں ملوث نہیں پائے گئے ہیں؟

اگر قصور کے کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے درندوں کے عمل سے تمام بچے بے عزت نہیں ہوتے تو جامعہ بلوچستان کی لڑکیاں کیوں ہوں؟ یہ تو ایک جرم ہے جس کے بھی ساتھ ہو خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی، بے عزت اور شرمسار تو اس مجرم کو ہونا چاہیے جو جرم کرتا ہے، جو گروپس ننگ و ناموس کے جزباتی کردار بنے ہوئے ہیں، ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اسی جامعہ بلوچستان میں ادارے کی زیردست ایک طلبہ تنظیم کام کر رہا ہے جو ادارے کی طرف سے طالب علموں کو تفریحی سیر، پروگرامز اور ٹیلنٹ شوز منعقد کراتی ہے جس کے ہر سال شمولیتی فارمز بھی بروائے جاتے ہیں، کیا کوتاہی تم سے سرزد ہورہی ہے جو بڑے لیڈروں، سیاستدانوں اور اعوانوں میں بیٹھنے والے لوگوں کے ساتھ، حمایت اور سرپرستی ہونے کے باوجود بھی تم اور تمھارے تنظیم عام طالبعلم کو ادارے والی تنظیم سے بچا نا سکے؟

جن جن طلباء تنظیموں کی احتجاجی ریلوں میں سب سے بڑا نعرہ "زندہ ہیں طلباء زندہ ہیں" ہوتا ہے، کیا وجہ ہے کہ وہ جن سیاسی پارٹیوں کے لیے الیکشن کے دنوں ورک کرتے ہیں، جھنڈے لگواتے ہیں، انھیں اعوانوں اور اقتدار کی کرسی تک پہنچاتے ہیں، وہ طلباء یونین کی بحالی کے لیے آئینی کام اور اقدامات نہیں اٹھا سکتے؟ یہی وجہ ہے کہ آج کے ڈمی تنظیموں سے سیلفی زدہ نوجوان اور مستقبل کے ٹیکہ دار تو نکل رہے ہیں مگر نظریاتی اور فکری لوگ نہیں، یہ لوگ جہاں مجمع دیکھتے ہیں شامل ہوجاتے ہیں، جہاں عہدہ ملتا ہے ایک گروپ سے مستفی تو دوسرے کا بنیاد رکھتے ہیں، جہاں کوئی نرم  بالشت اور نام کا نام نہاد کچھ بھی ملے جھٹ سے تعلقات جوڑتے ہیں اور اس قدر کنفیوز ہوتے ہیں کہ باز اقات جس مجمع میں شریک ہوکر احتجاج کررہے ہوتے ہیں، مطالبات اسی شخص سے کررہے ہوتے ہیں جسے چند دن پہلے سوشل میڈیا پر گریٹ پدسنیلیٹی کہہ کر پوسٹ کرچکے ہوتے ہیں، 

جامعہ بلوچستان کی اس ہراسمنٹ کی واقعہ کو چلیے چھوڑتے ہیں، کیا بلوچستان سمیت ملک بھر کی جامعات کے طالبعلموں کو یہ پتہ ہے کہ ملک بھر یا شاید اس خطے میں سب سے زیادہ لاپتہ طالب علموں کا تعلق اسی جامعہ بلوچستان سے ہے؟ بہت ساروں کی تو مسخ شدہ لاشیں بھی ملی ہیں، کیا یہ طالب علموں کا مشترکہ مسئلہ نہیں؟ اس پر کب ملک گیر احتجاج ہوگا؟ ہوگا بھی یا سرپرست سیاسی جماعت اجازت نہیں دےگی؟

مشال خان بھی ایک طالب علم تھا جسے جامعہ کے اندر ایک مخصوص انتہا پسندانہ سوچ کے ٹولے نے گھسیٹ گسھیٹ کر قتل کردیا، روشن خیال طلبہ تنظیوں نے کیا کیا؟

حانی گل بھی ایک طالب علم ہے، ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھی مگر انھیں دن دھاڑے کئی دنوں تک غائب رکھا گیا، ان کی تعلیم، ان کی کیرئیر سب کچھ اُن سے چین لیا گیا، کیا ہوا کتنے احتجاج ہوئے؟ کیا وہ بھی طلباء کا مسئلہ نہیں تھا؟

میڈیکل کالج میں نمرہ کی موت سے لیکر بحریہ کالج اسلام آباد تک کا سانحہ، کتنا اتحاد دکھایا گیا؟ کس طلباء تنظیم نے کس واقعہ کو ایک جگہ، ادارہ اور جنس سے نکل کر واقعی میں طلباء کا مسئلہ سمجھ کر اتحاد کے ساتھ آواز بلند کیا؟


چونکہ ہم جزباتی قوم ہیں اس لیے کسی بھی بٹن کے دبنے سے فوراً ایکٹیو ہوجاتے ہیں اور ڈمی عناصر کے ہتھ چڑھ جاتے ہیں مگر تحریک اور حقائق روشن باب کی طرح واضح ہیں کہ بلوچستان کے خوف زدہ، گھٹن زدہ ماحول میں جب لڑکے صرف الیکشنز کیلیے بینرز اور جھنڈے لگانے اور سوشل میڈیائی تصاویر کے لیے بنائے گئے کردار بنے تھے تب یہاں پچھلے کئی عرصوں سے تحریک، احتجاج اور مزاحمت کی مثال لڑکیاں ہیں،
جب پریس کلب تک لڑکوں کا بغیر کسی اشرفیا کی سرپرستی اور حمایت کے  جانا ناممکن تھا تب
بلوچ لڑکیاں ہزاروں کلومیٹر پیدل چل کر "لجیں گھارانی" سے زیادہ "کوپگیں براتانی" کا عملی ثبوت دے رہے تھے، 

New one

خریدہ فاروقی کے خریدے گئے سوالات

جاوید بلوچ صحافت ایک عظیم پیشہ ہے، ایک زمہ داری بھی اور ایک کھٹن راستہ بھی ہے جہاں چاپلوسی ءُ طاقت ور کا آشرباد ساتھ ہونا ایک داغ ہوتا ہے او...