Contact Form

Name

Email *

Message *

Tuesday, 30 April 2019

Unidentified labors of the Sea

Javed MB Baloch

"All the mechanism is ready and the ways are cleared, we have worked on it and research along paper works we have but unfortunately making laws and act is the work of public Representatives in parliament to declare the fishermen as labor"
These words said by KB faraq the founder of Gwadar educational welfare society (NGO)

Fishing is the main source of economy in the coastal belt of Balochistan, because of CPEC the fishermen of Gwadar are mentally Disturbed, they don't know what will happen tomorrow with their works, Mr Nasir Ali(a local fisherman) is complaining in these words
"We go to sea and return with empty hands, it happens so many times" when I asked him what does he know about 1st May the labor day, he replied with shaking his head nothing,

Advocate Saeed faiz thinks the fishermen are labor as others working in factories because they are producing the product in same way which is harder and tough, he said "fishing industry is one of large industry in the world, they are working in transportation too, they need to be constitutionally declared as labor" Mr faiz is not satisfied from the work out done regarding it, and he has same complain against the members of assemblies who aren't tickling this issue,


Nasir Ali said it's the work of fighting against death, he applied many where for jobs but he hadn't any recommendations that's why he could not get jobs, he replied me if he gets a job he never go for fishing,

According to KB firaq the case of fishermen is same as agriculture they grow, cut and distribute same here they are fishing and distributing the profit among them, there are still some issues which aren't completely clear, it needs to be explain first that how we can declared them as labor,
"We have gone to ESSI (employee social security institution) Quetta, Mr Qaiyoom kahkar was the labour secretary , we wanted to register the fishermen as labor, he sent us to commissioner who didn't know anything about fishing and sea, beside our explaining all the process of registering and issuing them cards they could define  it themselves which is so easy after the  eighteenth amendment because of this fishermen could get all those benefits which labors are getting at this time,"
He said that they have worked all but the MPA's and local representatives aren't looking interested in this side,

Another fisherman Mr Aziz Baloch said "we are always playing with our luck for two times food and playing for life with heavy Waves" he sadly explained that they have no facilities so many times they are suffering and unhealthy but compelled to go to sea because if he doesn't go all the family will suffer,

If fishermen will be declared as labor what's advantages they get? "If they will be declared as labor they get  their fundamental rights, education facilities for their children, health facilities and many more" explained by Saeed faiz,
Mr Khuda Baksh learnt the fishing from his father "when I opened my eyes I am going to sea I never saw the school but I want to educate my children, I know it's not easy with my fishing but it has no future, no life" Khuda Baksh answered me that what's his education, he also doesn't know about 1st May and labor day,

On this labor day 1st May where we present a tribute to the labors of Chicago we should not forget these unidentified labors who are waiting for their identification today.
bjaved739@gmail.com

Thursday, 18 October 2018

بریکنگ نیوز (نظم)

جاوید بلوچ

بریکنگ نیوز چلتی ہے
گرج دار ٹیون لگتی ہے
میں ریڈیو آن کرتا ہوں
سگریٹ انگلیوں میں ہے
اور ہونٹوں سے کش لگاتا ہوں
دھواں کتنا ہے کمرے میں
غروب آفتاب،میری آنکھوں میں جھلکتا ہے،
چشمہ بھی دھندلائے
جونہی شے سرخی میں پڑھتا ہوں
مجھے خود پہ ہنسی آئے
ہنسی کو حیران پاتا ہوں
لگائی ہے میری تصویر
لکھا ہے موٹے لفظوں سے
کہ نامعلوم کی فائرنگ سے ہلاکت ہوگئی ہے
زرا ٹہروں تو سوچھوں میں
نظام دائیں بازوں میں کیا کیا نہیں ہوتا
مگر مسجد سے اعلان موت کی آواز
اور دروازے پہ دستک ایک ساتھ ہوتے ہیں
کوئی معلوم سا ایک مجھے مار دیتا ہے
میری سیگریٹ
میرا چشمہ
اور یہ خبر پھلتی ہے
بریکنگ نیوز چلتی ہے

Thursday, 9 August 2018

طالبعلم نہیں، روبورٹس

آج کا طالبعلم ایک روبورٹ
جاویدبلوچ

اگر آج ایک طالبعلم اور روبورٹ میں فرق کرنے کو کہا جائے تو بہت ہی مشکل ہوگا بلکیں یہ دو مترادف ہی لگینگے
کیونکہ روبورٹ کو انسان نے جس مقاصد کیلیے بنایا ہے وہی کام آج کا طالبعلم کررہا ہے، آج کی ذہن سازی اس قدر آسان ہے کہ کوئی بھی شخص چند طلبہ کو اکھٹا کرکے انھیں کچھ بھی بنا سکتا ہے، کسی سیاسی جماعت کے نعرے باز، مذہب کے ڈنڈے بردار یا سیلفی مریض....
مطلب اُس سے ملکر سیلفی لے لو اور اپ لوڈ کرلو مگر بنو صرف روبورٹ اور غلطی سے طالبعلم نہ بننا کیونکہ طالبعلم سوچھتا ہے، پھر سوال بناتا ہے اور پھر پوچھتا ہے
وہ شخصیت، سیاسی جماعت، نوکری یا ٹیکہداری یا کسی عہدے کیلیے اپنے اس نام کو داغدار ہرگز نہیں کرسکتا بلکیں ایسا سوچھ تک نہیں سکتا کیونکہ وہ ایک طالبعلم ہوتا ہے، ایک طاقت، ایک ذہن، ایک سوچھنے کی صلاحیت رکھنے والی ذہن...
جو جی جی ہی نہیں کرتا بلکیں کیسے؟ کیوں؟ بھی کرتا ہے
وہ کائنات کی وسعتوں پہ نظریں جماتا ہے ناکہ ایک محدود حلقے پہ، اسے پتہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا بھر کی سب سے بڑی اکثریت ہے، اور اس طاقت کو وہ کسی بھی صورت چند ڈنڈوں، جھنڈوں یا سیلفیوں کی خاطر یا ایک ٹیکہ اور پگار کی نظر نہیں کرتے

بلکیں وہ شہید حمید جیسی تربیت پاکر غلط کو اپنے لیے، اپنی قوم کیلیے اور دنیا کیلیے غلط ہی سمجھے گا، اس کے خلاف بولے گا اور مزاحمت بھی کرےگا
وہ کنہیا کماری بن کر ایک شور میں بھی آواز بنے گا اور اس دنیا کی دوسری بڑی آبادی والی ریاست کی زورآور حکومت کو للکارے گا
شہید مشال خان


وہ مشال بن کر موت کو گلے لگائے گا مگر ایک روبورٹ نہیں بنے گا جو کسی کی وکالت کرتے کرتے صفائیاں دے یا نام نہاد طلبہ تنظیم مگر کسی اشرفیہ کی سال بھر کے اخباری بیانات کو رٹ کر سرکل میں اس کی ترجمانی کرے....
وہ اگر طالبعلم ہے تو سوچھے گا اور اپنے سوچھ کو دلائل کی بنیاد پر سوالات کے جوابات دلائے گا بغیر کسی گنا ، ثواب یا نیکی بدی کے...

طالبعلم قطب رند بن کر اپنے خیالات پر کسی کو حاوی نہیں ہونے دے گا بلکیں پنسل کی نوک سے انھیں خوبصورتی سے اظہار قابل کرےگا

شہید قطب رند

وہ روبورٹ بن کر کسی کی جیت یا ہار پر کسی کی ترجمانی یا بدزبانی کا بوجھ نہیں بلکیں غلط نظام بدلے گا، انقلاب لائے گا
بنگلہ دیش میں جاری حالیہ طلبہ احتجاج کی طرح ٹریفک مافیا اور کرپٹ حکومت کے خلاف مزاحمت کرےگا

وہ رجب اور دیاؤں کو کچلنے نہیں دے گا، وہ چترال میں طلبہ خودکشی پر بے خبری کی نیند نہیں سوئےگا، بشرطہ کہ وہ ایک طالبعلم ہو کوئی روبورٹ نہیں....
روبورٹ ہوگا تو سل اور بیٹری پر چلے گا سہی مگر اس کیلیے زندہ باد و مردہ باد اور دوسرے طوطے کی طرح رٹے رٹائے نعروں میں قید ہوجائے گا
سوچھ ، سوال اور خود سے محروم ایک روبورٹ رہے گا
کاش کوئی طلبہ تنظیم ہوتا جس میں طالبعلم ہوتے اور آج پھر قطب، رجب اور دیا مارے نہ جاتے، کچلے نہ جاتے...
بنگلہ دیش میں طابعلموں نے اپنے بھرپور احتجاج سے اپنے طالبعلم ہونے کا ثبوت دیا تو سرکا کی طرف انھیں چپ کرانے کیلیے روبورٹس بھی چوڑے گئے مگر ناکام رہے

لیکن ہم ہماری طرح کے "قصر سلطانی کے گنبد" والے روبورٹس ہمیشہ زندہ باد اور پائندہ باد ہیں

@JavedGwadari
bjaved739@gmail.com

Sunday, 5 August 2018

سر یوسف، ایک درد بھری انسان

جاویدبلوچ

کہتے ہیں کہ موت برحق ہے ، ہر انسان جو آج زندہ ہے کل اسے مرنا ہے ہم جیتے ہیں مرنے کیلیے مگر سر یوسف شاید وہ انسان ہے جنھیں موت کبھی نہیں مار سکتی کیونکہ موت جتنا  درد تو وہ روز اپنے چند الفاظوں میں سہہ لیتے تھے
اگر وہ مرے بھی تو کسی افینڈسک یا آپریشن کی وجہ سے نہیں بلکیں کئی دردوں کا بوجھ سہہ کر اُن سے لڑکر مرا ہے ہاں وہ ایک جسم کی صورت مرا ہے یہ حقیقت ہے اور اسی حقیقت کے وہ حق میں تھے، وہ کسی روایتی ، ڈرامائی یا دکھاوائی کے سخت خلاف تھے، ایک سیدھا سامنے بات کہنے والے صحافی استاد!
سر کی ہر لیکچر جب میں سن رہا ہوتا تو مجھے لگتا کہ کامریڈ فیض کی اس نظم کی تفسیر بیان کی جارہی ہے
سر مالک اچکزئی کی پوسٹ، سر یوسف کو یاد کرتے

آج کے نام "
اور
آج کے غم کے نام
آج کا غم کہ ہے زندگی کے بھرے گلستاں سے خفا
زرد پتوں کا بن
زرد پتوں کا بن جو مرا دیس ہے
درد کی انجمن جو مرا دیس ہے
کلرکوں کی افسردہ جانوں کے نام
کرم خوردہ دلوں اور زبانوں کے نام
پوسٹ مینوں کے نام
تانگے والوں کا نام
ریل بانوں کے نام
کارخانوں کے بھوکے جیالوں کے نام
بادشاہ جہاں والئ ماسوا، نائب اللہ فی الارض
دہقاں کے نام
جس کے ڈھوروں کو ظالم ہنکا لے گئے
جس کی بیٹی کو ڈاکو اٹھا لے گئے
ہاتھ بھر کھیت سے ایک انگشت پٹوار نے کاٹ لی ہے
دوسری مالیے کے بہانے سے سرکار نے کاٹ لی ہے
جس کی پگ زور والوں کے پاؤں تلے
دھجیاں ہو گئی ہے
ان دکھی ماؤں کے نام
رات میں جن کے بچے بلکتے ہیں اور
نیند کی مار کھائے ہوئے بازوؤں میں سنبھلتے نہیں
دکھ بتاتے نہیں
منتوں زاریوں سے بہلتے نہیں
ان حسیناؤں کے نام
جن کی آنکھوں کے گل
چلمنوں اور دریچوں کی بیلوں پہ بیکار کھل کھل کے
مرجھا گئے ہیں
ان بیاہتاؤں کے نام
جن کے بدن
بے محبت ریاکار سیجوں پہ سج سج کے اکتا گئے ہیں
بیواؤں کے نام
کٹٹریوں اور گلیوں محلوں کے نام
جن کی ناپاک خاشاک سے چاند راتوں
کو آ آ کے کرتا ہے اکثر وضو
جن کے سایوں میں کرتی ہے آہ و بکا
آنچلوں کی حنا
چوڑیوں کی کھنک
کاکلوں کی مہک
آرزومند سینوں کی اپنے پسینے میں جلنے کی بو
پڑھنے والوں کے نام
وہ جو اصحاب طبل و علم
کے دروں پر کتاب اور قلم
کا تقاضا لیے ہاتھ پھیلائے
وہ معصوم جو بھولے پن میں
وہاں اپنے ننھے چراغوں میں لو کی لگن
لے کے پہنچے جہاں
بٹ رہے تھے گھٹا ٹوپ بے انت راتوں کے سائے
ان اسیروں کے نام
جن کے سینوں میں فردا کے شب تاب گوہر
جیل خانوں کی شوریدہ راتوں کی صرصر میں
جل جل کے انجم نما ہوگئے ہیں
آنے والے دنوں کے سفیروں کے نام
وہ جو خوشبوئے گل کی طرح
اپنے پیغام پر خود فدا ہوگئے ہیں "
میرا(جاوید بلوچ) کا ٹوئیٹ


جس دن سر نے شینیلا سے گانے کی فرمائش کی سوچھا میں بھی فیض کی یہ نظم سنا دوں مگر......


استاد ایک ایسی ہستی ہوتی ہے جسے چند الفاظ
میں مکمل بیان کرنا ایک بے وقوفانہ سی کوشش ہوگی مگر سر یوسف میرے وہ دوسرے استاد تھے جو کلاس میں دوران لیکچر بچوں کی خاموشی کو اچھا نہیں سمجھتے تھے، وہ لیکچر کے درمیان نہایت ہی میٹھی انداز میں "ہاں بھئی کریم، جاوید، سبین، حبیب  تم بھی کچھ بولو"
وہ معلومات کا خزانہ تھے ہی تھے مگر انسانیت پرست اور انکے درد میں ڈوبے ہوئے ایک ملنگ اور ولی تھے گو کہ وہ ڈنگ پیر فقیروں سے اختلاف رکھتے تھے

اسے اس بات کی ٹینشن تو ہوتی تھی کہ سیلیبس مکمل ہو مگر اس سے زیادہ وہ اس بات پر پریشان ہوتے تھے کہ کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح ڈڈ لیول تک پہنچ گیا ہے، گوادر میں بحری جہازوں کی تیل سے سمندری ماحول اور حیات کو خطرہ لاحق ہے
پلاسٹک سے ماحولیاتی آلودگی بڑھ رہی ہے
کم عمری میں بچیوں کی شادیاں کراہی جارہی ہیں
مذہب ایک کاروبار بن گیا جو مختلف ٹیکہداروں کی نگرانی میں ہے
مشال کے والدین انصاف کے بجائے گھر نکلنے سے ڈرتے ہیں وغیرہ وغیرہ
ایسی کونسی درد نہ ہو جو سر کے سینے میں موجود نہ تھا....
وہ عظیم تر تھا، ہے، اور رہے گا

وہ ایسی درد کا تجوری تھے جو کسی ایک بیماری سے ہرگز مر نہیں سکتے...
وہ ایک وسیع ذہن اور ترقی پسند دماغ کے مالک تھے مگر ایسی ترقی کے شدید خلاف تھے جسے اپنانے والے اس کے قابل نہ ہوں یا اسے مکمل جانتے نہ ہوں

وہ ایک کامریڈ تھے جو مذہب ، قومیت اور مختلف دوسرے پابندیوں سے آزاد ایک انسان تھے اور ان کو پسند کرتے تھے جو انسانیت پسند تھے، 
بھلے دنیا نے انھیں انکی شناخت کیلیے مسیح کا لقب دیا تھا مگر وہ ذہن سازی کا مسیحا تھے اور وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ دائیں ہاتھ پر لکھا یوسف مسیح صرف ایک لاش کی شناخت ہوسکتی ہے ایک انسان کی نہیں....
وہ ایک ایسے علم کی شمع تھے کہ دنیا بھر کے درد پروانوں کی طرح اس کی طرف کینچھتے چلے آتے تھے
سر یوسف ایک شخصیت نہیں ایک انسان، درد بھری انسان تھے
سر کی وفات کی خبر سے متعلق کچھ اور دوستوں کے سوشل میڈیا پر دیے گئے تاثرات



bjaved739@gmail.com
@javedGwadari
Javed MB Baloch (student of Media)


Monday, 23 July 2018

آدم خور معاشرہ

ہمارا آدم خور معاشرہ پنجھے پال رہا ہے
جاویدبلوچ
Me student of journalism

@JavedGwadari

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں دن بدن تفرقہ بڑھتی جارہی ہے، لوگ اپنے جیسے لوگوں سے الگ رہنا چاہتے ہیں ایک دوڑ سی لگی ہوئی ہے جہاں ہر شخص آگے نکلنا چاہتا ہے اور یوں لگتا ہے کہ جو پیچھے رہ گیا وہ کم تر، کم درجہ اور تمام تر وقار و عزت سے گرا ہوا ہوتا ہے، اگر کچھ لمحوں کیلیے سوچھو بھی تو عجیب و غریب سا لگنے لگتا ہے
کچھ دن پہلے کچھ دوستوں کے ساتھ مل بیٹھ کر گفتگو ہورہی تھی تو بات نکلی انتخابات کہ پہلے یوں ہوتا تھا کہ اشرفیہ طبقہ ووٹ کیلیے صرف خاندان کے کسی ایک بڑے یا چالاک شخص سے ملتے تھے اور تمام ووٹ لے کر سالوں غائب ہوتے تھے اگر ملتے بھی تو صرف اسی سرکردہ سے جو ووٹ لے کر اسے جتواتا تھا

مگر اب ایسا نہیں رہا اس خاندانی سرکردہ کو باقی خاندان کے لوگ نہیں مانتے کیونکہ وہ اگر اس وزیر یا نمائندے سے ملتا تو صرف اپنے ذاتی یا اپنے بچوں کے کام نکلواتا، خاندان صرف یرغمال ہوتا تھا، اب ہر شخص دوسرے سے نفرت کرنے لگا ہے اپنا کام خود کرنا چاہتا ہے دھوکے میں نہیں رہنا چاہتا، اس کے لیے چالاک طبقوں نے اب ووٹ کیلیے پیسے چلانے کا رواج عام کیا ہے جہاں چند پیسوں سے ووٹ حاصل کیے جاتے وہاں کے اسکول، ہسپتال ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے ہیں اور ان اسکولوں اور ہسپتالوں کے پیسوں صرف خود پر خرچ کیے جاتے ہیں
اس سرکردہ اور فردی مفاد کا انجام یہ ہوا کہ معاشرے میں ہر شخص سرکردہ بننا چاہتا ہے ہر کوئی دوسرے سے صرف مفاد نکالنا چاہتا ہے، جتنا ہوسکے دوسرے کو لوٹنا چاہتا ہے ایک بھوک نے ہر شخص کے اندر جنم لیا ہے جو روز بروز بڑھتی جارہی ہے
ایسی بھوک جو انقلاب فرانس اور روس کے وقت عوام میں تھی جس میں بادشاہت سے ایسی نفرت ہوئی کہ ان کو اہل و عیال سمیت موت کے گھاٹ اتار دیا، انکے جسموں کو نوچ ڈالا بلکیں کھایا بھی
ایسی نفرت جس سے لیبیا کے لوگوں نے اپنے بادشاہ کزاففی کی لاش کو چوراہوں پہ گھسیٹا
آج ہمارے معاشرے کا بھی غریب اکثریتی طبقہ ایک ایسی بھوک کی طرف مائل ہورہی ہے انکے دلوں میں انکے کونسلر سے لیکر ہر نمائندہ، کسی بڑے پوسٹ پر فائز سرکاری افیسر وغیرہ سب کیلیے نفرت کے سوا کچھ نہیں اگر سامنے جھک کر سلام کرے تو دل میں ہزار گالیاں دے گا
یہی وجہ ہے جہاں جسے جو بھی موقع ملے وہ دوسرے کو ستائے گا بلکیں تڑپائے گا اور اپنا کوئی نا کوئی بدلہ اس سے ضرور لے گا

اگر وہ ٹریکٹر، ٹرک یا رکشاہ چلا رہا ہے تو بھرپور کوشش کریگا کہ اس ائیرکنڈیشن کار والے کو راستہ نہ دے
اگر ڈاکٹر ہے تو اپنی اسٹیٹس کو ہائی لیول طبقے تک ملانے کیلیے ہر دوائی کمپنی سے ملکر عام زندگیوں سے کھیل کر اپنی زندگی بنانے کی کوشش کریگی
اگر وہ کسی دفتر کا کلرک ہے تو اپنے افسرز کی کرپشن کو دیکھ کر اپنے حالت کو برا سمجھ کر اسے تبدیل کرنے کی ہر ناجائز کوشش کریگی اور اپنے سے نیچھے لوگوں پہ جتنا کرسکے زیادتی و بے رحمی کریگی
ایک عام آدمی آج عام نہیں بلکیں حساس ہوتا جارہا ہے
ٹریفک پولیس اپنے صاحبوں کی ڈیوٹی نہ دینے کا بدلہ سڑک کنارے کھڑے ریڑی والے سے لیتا ہے جتنی گالیاں دے سکتا ہے اسے دیگا بلکیں کھلے عام پیٹھگا بھی

ایک مسجد کا مولوی محض چند روپوں کی خاطر زندگی بھر امامت کرانے کیلیے کیسے رازی ہو؟ وہ ہر طرح ہوسکے بیان میں ردوبدل کرکے اور جس نمازی کے جیسے بھی کمائے ہوئے مال و زر ہوں انھیں حاصل کرنے کی خاطر جمعہ کا خطبہ اسی طریقے کا ہی دے گا
غرض کہ ہر طریقے سے معاشرے کے افراد ایک دوسرے سے  کپڑوں سے لیکر، چھت، خوراک، رنگھت ، ڈیل ڈال ہر چیز چینا چاہتے ہیں
لگتا کہ ہر شخص اندر ہی اندر بڑے پنجھے پال رہا ہے اور دوسرے پر حملہ کرکے اسے کھانا چاہتا ہے
ہم اور ہمارہ معاشرہ آدم خور بنتے جارہے ہیں بھلے ہر پارٹی کے جلسے میں جاکر یہ محسوس کراتے ہیں کہ لوگ سمجھیں کہ فلاں شخص فلاں پارٹی کا مگر حقیقت میں صرف نفرتیں جنم لے رہی ہیں اور نوچ کر کھانے والی قربتیں بڑھ رہی ہیں

سیاستدان جتنا ڈھنک رچا سکے رچائے گا جتنی ھمدردی حاصل کرسکتا ہے جس بھی طریقے سے وہ کریگا مگر اپنی کرسی کو جانے نہیں دےگا گو کہ بعد میں ناں منشور بچےگا ناں وعدے

وہ ایک پرائیوٹ اسکول کے فیسوں کی صورت ہو یا دودھ میں ملایا ہوا پانی کی صورت میں ہر شخص اس کا شکار بھی ہے اور شریک بھی
اب کب یہ بھوک، یہ گٹھن باہر نکلیگی پتہ نہیں مگر اسکے آثار واضح اور شدید تر ہوتے جارہے ہیں یہ مذہبی جنونیت کی صورت یا ذاتی برتری کی صورت ہر طرح سے نمایا ہے
دوسروں کو نقصان پہنچانا بھلے خود کو پہنچے، دوسروں کو ذلیل کرنا خود چاہے کتنا بھی ہوں، یہ ایک اشتعال انگیز اور خطرناک چہرہ ہمارے معاشرے کا.....
ایک آدم خور چہرہ....
bjaved739@gmail.com

Tuesday, 17 July 2018

پیرغئیب، بولان کی حسن کو بچائیے

جاویدبلوچ
پیرغئیب آبشار وادی بولان میں واقع ایک تفریحی مقام ہے جو بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ سے ستّر کلومیٹر کے فاصلے پر ہے
جہاں دور دراز سے اکثر لوگ سیروتفریح اور پکنک کیلیے آتے ہیں، جن میں سے باز تو دو سے تین دن تک قیام بھی کرتے ہیں
نوجوان سلفیاں لیتے ہوئے

تالاب جہاں ڈوبنے کا خطرہ بھی ہوتا ہے














پکنک اور تفریح پر آئے ہوے لوگوں کی لاپرواہی کی وجہ سے یہ حسین مقام اپنی خوبصورتی کھو رہا ہے،
لوگ کھانے پینے کی چیزیں اور پانی کی بوتلیں سمیت اپنا تمام تر کچرہ وہیں پھینک کر روانہ ہوجاتے ہیں
پانی کی سطہ پر جمع شدہ کچہرہ

عجیب بات یہ ہے کہ اکثر لوگ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں جو اس گندگی کو یوں ہی چھوڑ جاتے ہیں بجائے اس کو کسی ایک جگہ ٹکانے لگانے کی

پیرغئیب ایک بزرگ کی مناسبت سے اس مقام کو کہا جاتا ہے جہاں انکی قبر بھی ہے جو ایک درگاہ نما ہے جس کی پاسپانی کیلیے لوگ بھی ہیں مگر صفائی کے حوالے کوئی بھی انتظام نہیں ہے
پلاسٹک کی تھیلیاں درختوں کی جڑوں کے ساتھ

بحیثیت زمہدار شہری یہ ہماری زمہ داری کہ ہم اخلاق کا مظاہرہ کرکے اپنے تفریحی مقامات کی حفاظت کریں
ویدیو دیکھنے کیلے لنک پر کلک کریں
https://youtu.be/lys8kHO7eQE

New one

خریدہ فاروقی کے خریدے گئے سوالات

جاوید بلوچ صحافت ایک عظیم پیشہ ہے، ایک زمہ داری بھی اور ایک کھٹن راستہ بھی ہے جہاں چاپلوسی ءُ طاقت ور کا آشرباد ساتھ ہونا ایک داغ ہوتا ہے او...